تونسہ: بچوں میں ایچ آئی وی وبا کے پھیلاؤ سے جڑے ہسپتال میں سرنجز کے ایک سے زیادہ بار استعمال کا انکشاف
At its Main, Bitcoin is really a decentralized fiscal revolution. Functioning on a secure community, it provides a amount of transparency and Regulate that regular currency cannot match. This change in cash is why it gets world-wide awareness and news coverage.
بٹ کوائن ایک ڈیجیٹل کرنسی اور پیئر ٹو پیئر پیمنٹ نیٹورک ہے جو آزاد مصدر دستور پر مبنی ہے اور عوامی نوشتہ سودا کا استعمال کرتی ہے۔ بٹ کوئن کمانے یا حاصل کرنے میں کسی شخص یا کسی بینک کا کوئی اختیار نہیں۔ یہ مکمل آزاد کرنسی ہے، جس کو ہم اپنے کمپیوٹر کی مدد سے بھی خود بنا سکتے ہیں۔ بٹ کوئن کرنسی کا دیگر رائج کرنسیوں مثلا ڈالر اور یورو سے موازنہ کیا جا سکتا ہے، لیکن رائج کرنسیوں اور بٹ کوئن میں کچھ فرق ہے۔ سب سے اہم فرق یہ ہے کہ بٹ کوئن مکمل طور پر ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کا وجود محض انٹرنیٹ تک محدود ہے، خارجی طور پر اس کا کوئی کاغذی یا دھاتی وجود نہیں۔ اسی طرح بٹ کوئن کرنسی کے پیچھے کوئی طاقتور مرکزی ادارہ مثلا مرکزی بینک نہیں ہے اور نہ کسی حکومت نے اب تک اسے جائز کرنسی قرار دیا ہے، اسی وجہ سے ریاستہائے متحدہ امریکا کے وزارت خزانہ نے اسے غیر مرکزی کرنسی قرار دیا ہے، کیونکہ اس کرنسی کو ایک شخص براہ راست دوسرے شخص کو منتقل کر سکتا ہے، اس کے لیے کسی بینک یا حکومتی ادارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم انٹرنیٹ کے ذریعہ بٹ کوئن کو دیگر رائج کرنسیوں کی طرح ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
،تصویر کا کیپشنکرپٹو کرنسی کی ہر ٹرانزیکشن بلاک چین پر رضاکاروں کے ایک نیٹ ورک کی مدد سے ریکارڈ کی جاتی ہے
یہ پہلے سے قائم شدہ بلاک چین کہ جس پر کوئی کوئن بن چکا ہو اس پر قائم ہوتے ہیں۔
عموماً ٹرانزیکشن میں یہ کام بینک وغیرہ کا ہوتا ہے کہ وہ ٹرانزیکشن کو دھوکہ دہی اور جعل سازی سے محفوظ رکھیں لیکن کر پٹوکرنسی میں کوئی ادارہ شامل نہیں ہوتا تو اس احتمال کو دور کرنے کے لیے تصدیق کے عمل کی ضرورت پیش آئی۔ اس عمل کے لیے مختلف کر پٹوکرنسی میں مختلف طریقے استعمال ہوتے ہیں۔ بٹ کوائن پری سیل میں ” مائینگ” کا عمل ہوتا ہے جس کو ” پروف آف ورک” کہا جاتا ہے۔ اس کی وضاحت ہم ان شاء اللہ آگے کریں گے۔ کچھ کرنسیاں اس تصدیق کے لیے سٹیکنگ کا عمل استعمال کرتی ہیں جس کو پروف آف سٹیک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ مائیٹنگ کی بنسبت سستا اور آسان عمل ہوتا ہے۔
کرپٹو والٹ ایک ایسی جگہ کو کہتے ہیں جہاں سرمایہ کار اپنی کرپٹو کرنسی کو محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہوتی ہیں: ہاٹ والٹ اور کولڈ والٹ۔
جب میں ویب پر اپنی رقم دے کر خوش تھا تو ایسے میں مجھے فوراً معلوم ہوا کہ بٹ کوائن کو آن لائن منشیات خریدنے بٹ کوائنز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جو ایک ایسی چیز تھی جس کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی۔ بٹ کوئن کو آپ اپنی ہفتہ وار خریداری کے لیے استعمال نہیں کر سکتے۔ مجھے یہ اس لیے معلوم ہے کیونکہ ایک سٹور پر لوگ مجھ پر ہنس چکے ہیں۔
جرمن ماڈل کی تصویر لائک کرنے پر وراٹ کوہلی کے خلاف ہنگامہ
انشورنس فراڈ: گاڑیوں پر حملہ کرنے والا ’ریچھ‘ انسان نکلا
جس طرح بینک کے پاس اپنے گاہک کی پوری معلومات ہوتی ہیں اسی طرح کرپٹوکرنسی ایکسچینج کے پاس کرپٹوکرنسی استعمال کرنے والے کی پوری معلومات ہوتی ہیں۔
بِٹ کوائن نیٹ ورک کے رضاکاروں کا اس میں فائدہ یہ ہے کہ جو بھی اس خرید و فروخت کی پہلے تصدیق کرتا ہے اسے انعام میں بِٹ کوائن دیے جاتے ہیں۔
چونکہ بٹ کوائن کا نظام بلاک چین ٹیکنالوجی پر قائم ہے اور اس میں تمام ریکارڈ نیٹ ورک میں موجود تمام کمپیوٹرز/ نوڈز میں ہوتا ہے۔ مائیر کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ ٹرانزیکشن جس کا ایک مخصوص کوڈ ہوتا ہے وہ اس کو چیک کرتا ہے کہ یہ بٹ کوائن حسن کے پاس کیسے آیا اور وہ اس ٹرانزیکشن سے قبل اس کو کسی اور جگہ پر خرچ تو نہیں کر چکا۔ جب مائینز مطمئن ہو جاتا ہے تو وہ اس ٹرانزیکشن کی تصدیق کر دیتا ہے اور بٹ کوائن حسن کی ملکیت سے نکل کر زید کی ملکیت میں آ جاتا ہے۔ اس عمل کو مائیٹنگ کہتے ہیں۔ اس کو پروف آف ورک بھی کہا جاتا ہے۔ یہ عمل انتہائی محنت طلب اور بے انتہا مہنگا ہوتا ہے۔ اب سوال یہ آتا ہے کہ جو شخص اتنی محنت اور سرمایہ خرچ کر کے اس تصدیق کے عمل کو سر انجام دیتا ہے اس میں اس کا کیا فائدہ ہے؟
ہم نے عرض کیا کہ چونکہ کر پٹوکرنسی ایک زرہے تو اس پر شرعی طور پر زر کے احکامات لاگو ہوں گے، زرکی آپس میں خرید و فروخت کے تعلق سے جو شروط اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بیان کی گئی ہیں وہ ہم نے اجمالاً ذکر کردیں۔ دیگر احکامات جو زر کے تعلق سے شریعت کے ہمیں ملتے ہیں ان کا بھی اجمالی ذکر ضرروی ہے۔ ان احکامات کو ہم کر پٹوکرنسی پر لاگو کرتے ہوئے سمجھتے ہیں :